ملٹی ورس کے بعد پھر ملٹی ورس کے بعد پھر ملٹی ورس ...
سلسلہ لا محدودیت !
یہ خدا کی شان ہے کہ وہ لا محدودیت کا بھی خالق ہے
اور اگر خدا نے یہ درجات سات لیول تک ہی رکھے ..
لا محدودیت نہیں رکھی اپنی تخلیق میں تو یہ بھی اس کی شان اسی کی مرضی ہو گئی !.. اس سے بنیادی بات پر فرق نہیں پڑے گا کہ خدا لا محدودیت کا بھی خالق ہے
یا پھر اپ یہ کہنا چاہیں گے کہ "لامحدودیت" الله پر غالب ہے ؟
یا اپ کہنا چاہیں گے کہ "لا محدودیت" الله کی صفت ہے ؟
کیا خیال ہے ؟
امکانات لامحدودیت میں خدا کہیں محدود ہے کہیں واقعی اپنے مکمل وجود کے ساتھ استوا ہے ؟
استغفرالله
یا یہی بہتر ہے کہنا کہ خدا لا محدودیت کا بھی خالق ہے وہ کائنات میں مخلوق کی آسانی کے لیے خود کو ظاہر یا استوا کر سکتا ہے مگر یہ اس کا احسان ہو گا اس کی مجبوری یا محدودیت کی وجہ نہیں !
خدا جو لامحدودیت کا بھی خالق ہے
یعنی لامحدودیت خود تخلیق کی گئی ہے تو
کیا صفت لامحدودیت اپنے خالق پر غالب سکتی ہے ؟؟
ہر گز نہیں
جب لا محدودیت بھی مخلوق ٹہری تو کون بیوکوف
اپنی عقل محدود سے لا محدودیت اور خالق لا محدودیت
کو سمھجنے کا شوقین ہو گا ؟
اذہان کو تسکین صرف اس بات سے مل سکتی ہے کہ
تمام لامحدودیت عالم خیال ہے اور تمام عالم خیال
الله کا ہی علم ہے
اس ترھا سب کچھ الله کے علم میں ہے
یہی وحدت ال وجوود ہے !
جسے خود کو مشکل میں ڈالنے کا شوق وہ خالق کے مخلوق میں حلولیت پر الجھا رہے ، اور شرک کی گھاٹیوں میں غوطے لگاۓ
اپر جو کچھ بیان کیا ہے وہ قرآن کی آیت کے احاطے میں ہے
کیونکہ قرآن الله کا کلام ہے ! اگر کسی زمانے میں اس کے مفہوم مخفی رہے تو الله خود قرآن میں فرماتے ہیں
"ہم عنقریب اپنی نشانیاں انھیں دکھائیں گے "
Sura Al-Hadid {57} Verse 3: "He is the First (awwal) and the Last (akhir), the Evident {zahir} and the Immanent {batin}: and He has full knowledge of all things."
آیت نے تمام مادیت (ظاہر) اور تمام باطنیت (لا محدودیت ، غیب .. ) کو خوبصورتی سے سما دیا ہے .
Sura An-Nur (Ayat an-Nur) {24} Verse 35: "Allah is the Light of the heavens and the earth."
میرے نزدیک تو یہ مصیبت ہے کہ نور کو روشنی سے تعبیر کر کے الله کو کوئی ماہیت دینا چاہتا ہے .. نور سے مراد "اصل" ہے .
خلاصہ کلام ! "جس کی سمھج جہاں تک اس کا رب وہاں تک"
کو خدا کے مظہر (استوا) پر رہنا چاہتا ہے وہ بھی حق ہے
اور جو خدا کو لازوال لامحدودیت کا بھی خالق تصور کرنا چاہتا ہے وہ بھی حق. محدود ذہین حلول میں الجھ کر فتویٰ بازی میں مقید رہے، اس کی مرضی !
از عمر احمد صدیقی
لوگوں کو مغالطہ ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی کائناتی خدائی رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے تو وہ رسالت کی توہین کرتا ہے . کیا رسول الله (ص) نے اس ویڈیو میں بتائی جانے والی تمام تحقیق واضح طور پر ہمیں سمجھائیں تھیں ؟ نہیں .. تو کیا یہ علم خدائی نہیں ؟ کیا یہ علم خدا سائنس دانو کو ان کی ریاضت و محنت کی بدولت عطا نہیں فرما رہا ؟؟ ان کو بھی علم الله ہی عطا کر رہا ہے اور اپنی راہوں میں ریاضت کرنے والے صوفیہ اولیا کو بھی الله علم عطا کرتا ہے .. فرق یہ ہے کہ رسول الله (ص) کا علم شریعت الہی کا علم ہے نبوت کا علم ہے جو صرف رسول الله (ص) کے ساتھ خاص ہے .. اس کے علاوہ جو علم ہے وہ الله سائنس دنوں کے اذہان میں القا کر رہا ہے یا صوفیہ اولیا کو بطور انعام دے رہا ہے الہام و کشف کے ذریے !
ابن عربی کی مستقبل کی پیشن گویاں اسی علم کی بدولت ہیں
مشاہدہ، ریاضت ، کیفیات ، کی دنیا میں قلم لے کر بیٹھے ہو .. صبر کرو اخی
الله سائنس دانو کو علم دے رہا ہے کہ "مخلوق کا وجود" کچھ نہیں
سائنس دان ریاضی کے ذریے اور الله والے ریاضت کے
ذرے مشاہدہ حاصل کر لیتے ہیں .. اگر سائنس دان یہ علوم حاصل کر کے رسول الله (ص) کی نبوت پر غالب نہیں ہوتے بلکے رسول الله (ص) کے لاۓ قرآن کے واضح لینڈ سکیپ میں ہی پنپتے ہیں ، اسی ترھا اولیا الله بھی اپنے کائناتی مادی و روحانی مشاہدات کے باوجود نبوت کو کچھ نقصان نہیں دیتے . نبوت الله کی واضح دلیل ہے .. اور الہام و کشف صرف مشاہدات ہیں جو سکینہ اور تسکین قلب کے لیے الله اپنے مقرب متقی بندے کو اپنے ایمان میں پختگی کے لیے عطا فرماتا ہے !
پہلے اساس قائم ہو اور دل کا کٹورا تکبر سے خالی ہو -
جو شخص مر مر کے صرف پانچ وقتا نماز ہی پڑھ لیتا ہو وہ بھی اخیر وقت میں .. اور صرف بنیادی دین پر ہی چلتا ہو
کیا وہ ایسی ہی توقو رکھے الله سے جیسی وہ سخص رکھتا ہے جو
جو مال حرام سے بچتا ہو، ذکر الہی میں غرق رہتا ہو ، تزکیہ نفس کرتا ہو، غیبت سے بچتا ہو ، رات کے پچھلے پہر اٹھ کر الله کا قرب حاصل کرتا ہو ، جھوٹ سے مکمل بچتا ہو ، تلاوت قرآن میں غرق رہتا ہو ؟ نظروں کی حفاظت کرتا ہو ؟ جس کا دل ہمہ وقت الله کی جانب مشغول رہتا ہو؟
And those who struggle in Our (Way), We will certainly guide them to Our Paths for, verily, Allah is with those who do right.
(Surat al-`Ankabut, 29:69)
Supplicate to Me and I will give you! (Surat al-Mu’min, 40:60)
وحدت ال وجود سے لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے
کہ اس کا مطلب الله مخلوق میں حلول کر گیا ہے تو سب کچھ الله ہے تو انسان بھی الله
ہے تو پھر سزا و جزا کیا ؟ حلانکے وحدت ال وجود الله کے مخلوق میں حلول کی نہیں ،
بلکے مخلوق کے الله کی ذات میں حلول کی بات کرتی ہے - مخلوق کا وجود ہے مگر خدا کے
وجود خدائی کے اندر .. آخر خدا سے الگ
وجود کیسے ممکن ہے ؟ اگر وجود خدا سے الگ ہے ،تو وہ الگ جگہہ کیا تھی جہاں وجود کو
پیدا کیا گیا ؟؟ وہ الگ جگہہ کیا ہمیشہ سے تھی ؟ یا اسے بھی پیدا کیا گیا ؟ تو
کہاں پیدا کیا گیا ؟ اس سلسلہ لامحدودیت کا حل یہی ہے کہ وجود خدائی میں ہی وجود
کا وجود ہے -یعنی مخلوق خدا میں حلول ہے .. خدا مخلوق میں حلول نہیں ہے -
از عمر احمد صدیقی
“الله کی ذات کے ادراک سے عاجز ہو جانا ہی ادراک
ہے
-حضرت ابو
بکر صدیق
-مولا
علی نے کہا
-"ذات
کے ادراک کی کوشش کرنا شرک بن جاۓ گا "
-مجھے خوب
معلوم ہو گیا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں
Comments
Post a Comment