Muqadima Ibn-e-Arbi
فان النبوۃ التی انقطعت بوجود رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انما ھی نبوۃ التشریع لا مقامھا، فلا شرع یکون ناسخاً لشرعہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا یزید فی حکمہ شرعًا اٰخر. وھٰذا معنی قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدیولا نبی: ای لا نبی بعدی یکون علی شرع مخالفاً لشرعی، بل اذا کان یکون تحت حکم شریعتی.(۳/۶)
چنانچہ جو نبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی، وہ محض تشریعی نبوت ہے۔ نبوت کا مقام ابھی باقی ہے، اِس وجہ سے بات صرف یہ ہے کہ اب کوئی نئی شریعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو نہ منسوخ کرے گی اور نہ آپ کے قانون میں کسی نئے قانون کا اضافہ کرے گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ نبوت و رسالت ختم ہو گئی ، اِس لیے میرے بعد اب کوئی رسول اور نبی نہ ہو گا، درحقیقت اِسی مدعا کا بیان ہے ۔ آپ کے اِس ارشاد کا مطلب یہی ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہو گا جس کی شریعت میری شریعت کے خلاف ہو ، بلکہ وہ جب ہو گا تو میری شریعت ہی کا پیرو ہو گ
شیخ ابن عربی کی ان عبارات کی طرف جن کے اندر تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کے الفاظ ملتے ہیں اور جن سےغامدی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ شیخ ابن عربی ایسی نبوت کے جاری ہونے کے قائل ہیں جو کہ کوئی نئی شریعت لے کر نہ آئے ، جبکہ بات سراسر غلط ہے ، جب ہم شیخ ابن عربی کی دوسری عبارات کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک تشریعی نبوت سے مراد وہ نبوت ہے جو ولایت کے مقابلے میں ہے اور جسے شریعت نے نبوت کہا اور انہوں نے کمالات نبوت اور مبشرات کو غیر تشریعی نبوت فرمایا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ شریعت نے اسے نبوت نہیں کہا یعنی جو نبوت بغیر تشریع ہو وہ نبوت نہیں کہلاتی بلکہ نبوت کا اطلاق اس وقت درست ہوتا ہے کہ جب تمام اجزائے نبوت جن میں تشریع بھی داخل ہے مکمل موجود ہوں پس کامل نبوت باقی نہیں صرف بعض اجزائے نبوت باقی ہیں، جنہیں نہ شرعاَ نبوت کہا جا سکتا ہے نہ عرفاََ ، پس اگر غیر تشریعی نبوت کو باقی بھی کہا جائے تو اس کا معنی صرف یہ ہے کہ سچے خواب اور مبشرات باقی ہیں جو نہ نبوت کہلاسکتی ہے اور نہ صاحب مبشرات نبی کہلا سکتا ہے ۔
ابن عربی ؒ کے نزدیک ہر نبوت تشریعی ہے
آئیے ہم شیخ ابن عربی کی عبارات سے ہی اس بات کو ثابت کرتے ہیں :
فما بقی للاولیاء الیوم بعد ارتفاع النبوۃ الا التعریف وانسدت ابواب الاوامر الالھیۃ والنواھی ، فمن ادعاھا بعد محمد فھو مدع شریعۃ اوحی بھا الیہ سواء وافق بھا شرعنا او خالف
پس نبوت ختم ہوجانے کے بعد اولیاء کے لئے صرف معارف باقی رہ گئے ہیں اور اللہ کے اوامر ونواہی کے دروازے بند ہوچکے پس اگر کوئی محمدﷺ کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ ( اللہ نے اسے کوئی حکم دیا ہے یا کسی بات سے منع کیا ہے ) تو وہ مدعی شریعت ہی ہے خواہ اس کی وحی شریعت محمدیہ کے موافق ہو یا خلاف ہو ( وہ مدعی شریعت ضرور ہے ) ۔ ( الفتوحات المکیہ ، جلد 3 صفحہ 39 ) شیخ کی اس عبارت سے واضح ہوا کہ مدعی شریعت صرف وہی نہیں جو شریعت محمدیہ کے بعد نئے احکام لے کر آئے ، بلکہ وہ مدعی نبوت جس کا دعویٰ ہو کہ اس کی وحی شریعت محمدیہ کے بالکل مطابق ہے وہ بھی مدعی شریعت ہے ۔
اور یہ دعویٰ بھی ختم نبوت کے منافی ہے ، لہٰذا آنحضرتﷺ کے بعد جس طرح نئی شریعت کا دعویٰ ختم نبوت کا انکار ہے اسی طرح شریعت محمدیہ کے مطابق وحی کا دعویٰ بھی ختم نبوت کا انکار ہے ، اس عبارت سے واضح ہوا کہ شیخ ابن عربی کے نزدیک تشریعی نبوت سے مراد وہ نبوت ہے جسے شریعت نبوت کہے خواہ وہ نبوت نئی شریعت کی مدعی ہو یا شریعت محمدیہ کی موافقت کا دعویٰ کرے ، اس طرح شیخ ابن عربی کے نزدیک غیر تشریعی نبوت سے مراد وہ کمالات نبوتا اور کمالات ولایت ہوں گے جن پر شریعت نبوت کا اطلاق نہیں کرتی اور وہ نبوت نہیں کہلاتے ۔
آنحضرتﷺ کی وفات کے ساتھ ہی وحی منقطع ہوگئی
واعلم ان لنا من اللہ الالھام لاالوحی فان سبیل الوحی قد انقطع بموت رسول اللہ ﷺ وقد کان الوحی قبلہ ولم یجیء خبر الھی ان بعدہ وحیاََ کما قال ولقد اوحی الیک اولی الذین من قبلک ولم یذکر وحیاََ بعدہ وان لم یلزم ھذا وقد جاء الخبر النبوی الصادق فی عیسیٰ علیہ اسلام وقد کان ممن اوحی الیہ قبل رسول اللہ ﷺ لایؤمنا الامنا ای بسنتنا فلہ الکشف اذا نزل والالھام کما لھذہ الامۃ
جان لو کہ ہمارے لئے ( یعنی اس امت کے لئے ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف الہام ہے وحی نہیں ۔ وحی کا سلسلہ آنحضرت ﷺ کی وفات پر ختم ہوچکا ہے ۔ آپ سے پہلے بے شک یہ وحی کا سلسلہ موجود تھا ۔ اور ہمارے پاس کوئی ایسی خبر الہٰی نہیں پہنچی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی کوئی وحی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وحی کی گئی تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف ۔ ( الزمر :65 ) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے بعد کسی وحی کا ذکر نہیں فرمایا ۔
ہاں آنحضرت ﷺ کی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے بارے میں سچی خبر پہنچی ہے ، اور آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی طرف آنحضرت ﷺ سے پہلے وحی کی گئی تھی ۔ آپ جب امت کی قیادت کریں گے تو ہماری شریعت کے مطابق عمل کریں گے ۔ آپ جب نازل ہوں گے تو آپ کے لئے مرتبہء کشف بھی ہوگا اور الہام بھی جیسا کہ یہ مقام ( اولیاء ) امت کے لئے ہے ۔( الفتوحات المکیہ ، جلد 3 صفحہ 238 ) یہاں شیخ نے صراحت کے ساتھ اس امت میں وحی نبوت کا سلسلہ بند بتلایا ہے ، اگر آنحضرت ﷺ کے بعد وحی جاری ہوتی تو شیخ ابن عربی اس طرح اس کے بند ہونے کا ذکر نہ فرماتے ، نیز یہ بھی وضاحت فرمادی کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام پر آپ کی وفات کے بعد کوئی وحی اترے گی تو وہ کشف اور الہام کے معنی میں ہوگی اور اصطلاحی وحی نہ ہوگی جو صرف نبیوں پر آتی ہے وہ نئی شریعت کے ساتھ ہو یا پرانی شریعت کے ساتھ ، نیز اس تحریر سے شیخ ابن عربی کا یہ عقیدہ بھی پتہ چل گیا کہ آپ انہی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے نازل ہونے کے قائل ہیں جن پر آنحضرت ﷺ سے پہلے وحی نازل ہوچکی تھی ، جبکہ قادیانی عقیدہ اس کے برعکس ہے ۔
نبی کا لفظ صرف اس پر بولا جائے گا جو صاحب تشریع ہو ایک اور جگہ لکھتے ہیں :
فاخبر رسول اللہ ﷺ ان الرؤیا جزء من اجزاء النبوۃ فقد بقی للناس من النبوۃ ھذا وغیرہ ومع لا یطلق اسم النبوۃ ولا النبی الاعلی المشرع خاصۃ فحجر ھذا الاسم لخصوص وصف معین فی النبوۃ وماحجر النبوۃ التی لیس فیھا ھذا الوصف الخاص وان کان حجر الاسم نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اچھا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے ، پس نبوت میں سے لوگوں کے لیے یہ رؤیا وغیرہ باقی رہ گیا ہے مگر اس کے باوجود نبوت اور نبی کا نام صرف اس پر بولا جاتا ہے جو صاحب دین وشریعت ہو۔ ایک خاص وصف معین کی بناء پر اس نام (نبی ) کی بندش کر دی گئی ہے ۔( الفتوحات المکیہ ۔ جلد 2 صفحہ 276 ) شیخ ابن عربی کی یہ تحریر واضح بتلا رہی ہے کہ ان کے نزدیک نبی کا لفظ صرف اس کے ساتھ خاص ہے جو صاحب دین وشریعت ہو ( چاہے اسے نئی شریعت ملی ہو یا کسی پرانی شریعت پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہو ) اور یہ نبوت ختم ہو چکی ہے اب لوگوں کے لئے مبشرات وغیرہ ہی باقی رہ گئے ہین اور ان پر نبوت کا لفظ نہیں بولا جاسکتا ۔
یہ وہ مسلمان ہوں گے جنہیں پہلے تو سزا دوزخ میں جانے کی ملے گی .. جب وہ اپنی سزا پوری کر لیں گے تو دوزخ میں ہونے کے باوجود دوزخ کی آگ ان پر ٹھنڈی ہو جاۓ گی کیونکہ وہ اپنی سزا پوری کر چکے.. یہ جب تک ہو گا جب الله ان پر تجلی نہ کرے گا .. یعنی انتظار میں رکھے گا .. پھر جب الله ان پر تجلی فرماے گا تو وہ الله سے مناجات کریں گے ہمیں دوزخ سے .نکلیں .
عذاب مٹھاس ان کے لیے ہے جن پر سزا ختم ہو چکی .. وہ اپنی سزا پوری کر چکے.. اب جب تک الله ان پر رحم کھا کر جنت سے نہیں نکلتا.. ان پر دوزخ ٹھنڈی ہو گی
اب جن دوزخیوں پر آگ ٹھنڈی ہو گی کہ سزا پوری کر چکے تو ان پر راحت ہے کہ اب وہ الله کے رحم کی امید میں ا چکے .. ایسے دوزخیوں اور جنتیوں میں یہی فرق رہ گیا کہ اہل جنت الله کے قریب ہیں اور وہ الله سے دور.. اہل جنت الله کی تجلیات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور یہ دوزخی (سزا پوری کر چکنے والے ) محروم ہیں ..
Comments
Post a Comment