IBN e ARBI vs Ghamdi - Layman's analysis - Article by Ammar Siddiqui
ابن عربی اور غامدی
اہل سنّت والجماعت سے بہکے ہوے دو کردار !
#ابن عربی باطنی دین اخذ کرتا ہے ظاہری دین کا انکار نہیں کرتا ، جبکہ غامدی ظاہری دین میں ہی بگاڑ کر کے ایک نیا اور چھوٹا دین وضح کرتے ہیں - رسول الله (ص) امّت میں ٥٠ سال سے زیادہ رہے ، ایک لاکھ صحابہ سے خطاب کیا ، مگر امت کو صرف ستائیس سنتیں غامدی کی بدولت نصیب ہوییں انکار حدیث کی وجہ سے !
#ابن عربی اپنے سے پچھلوں اور اگلوں کی تصدیق کرتا ہے جبکہ غامدی اپنے سے پچھلوں تمام کی نفی کرتے ہیں
#ابن عربی عیسیٰ علیہ سلام کی واپسی کا اقرار کرتا ہے اور امّت کے ساتھ کھڑا ہے ، غامدی صاحب الگ کھڑے ہیں !
#ابن عربی روحانی مدارج میں شریعت کی حدود سے نکل جاتا ہے اور غامدی روحانیت کے انکاری ہیں ، غامدی صاحب سے کوئی روحانی کیفیت اپ کو حاصل نہیں ہوتی ، سواۓ تحقیقق و تدریس کے ! اندازہ کریں کہ سہیل صاحب کا بھی سارا زور تحقیق پر ہے عبادت و دعوت پر نہیں ! انہیں کوئی فکر نہیں کہ دوست نماز پڑھ رہے ہیں یا نہیں ، انہیں صرف سنتیں ٢٧ ثابت کرنے پر زور ہے !
#ابن عربی اسپین سے تعلق رکھتے تھے جہاں عیسایوں اور یہودیوں کا بھی زور تھا ، وہ ان سے متاثر ہوے ، اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے گریک یونانیوں سے فلسفہ اخذ کیا ، غامدی صاحب بھی سیکولر لبرل افکار سے متاثر ہیں ، ان کا کہنا الله نے اہل مغرب کو اب قیادت کے لیے چن لیا ہے ، اس لیے جہاد کا راستہ چھوڑ کر اہل مغرب کی اتباع کر لینی چاہیے !
# ابن عربی قرآن کے باطنی معنی آشکار کرتا ہے اور ظاہری معنی کی نفی نہیں کرتا، غامدی صاحب باطنی کے تو قائل ہی نہیں، ظاہری معانی کو ہی بدل دیتےہیں ، عربی زبان کی لغت، گرامر و قوائدکی کی صریح نفی کر کے ، یہ وہ معنی ہوتے جو پوری تاریخ اسلام میں کسی نے نہیں کے ہوتے مثلا
- حرف لطف "وا" کا ترجمہ "یعنی" کر کے اور اس سے ان کا مقصد "حکمت" کا مطلب "حدیث" نکلنے سے روکنا ہوتا ہے
- "قسم فجر کے وقت کی " کا ترجمہ کرتے ہے "اور فجر گواہی دیتی ہے " یعنی فجر کو زبان عطا فرما دیتے ہیں ! (ابن عربی کے طرز پے)
وغیرہ
# ابن عربی اہل سنۂ والجماعت میں خود کو شامل رکھتا ہے ، جبکہ غامدی کہتے ہیں پچھلے سب غلطی پر تھے،
ابن عربی کا دین متوازی ، غامدی صاحب کا دین جدید ، پرانے کا انکار اور نئی تجدید پر زور !
# اجماع صحابہ غلطی
# حدیث اسماء رجال غلطی
# صوفیہ غلط راستے پر
# سنتیں باطل
# تراویح بیکار
# سود جائز
# اخلاط جائز
# نہ محرم سے بوس و کنار جائز اگر نیت ٹھیک ہو اور معاشرہ اجازت دیتا ہو !
# داڑھی کا انکار
# پردے کا انکار !
وحدت ال وجود ایک حقیقت ہے قرآن کی نص سے ثابت ہے "تم مشرق دیکھو یا مغرب الله ہی کو پاؤ گے"
ابن عربی پیدا ہوتا یا نہ پیدا ہوتا ، وحدت الوجود انسانی ذہن کی تشنگی کو دور کرتا رہتا
صواد آزم نے ابن عربی سے اچھی باتیں اخذ کر لیں اور ابن عربی کو اس کے حال پی چھوڑا بعض نے تکفیر بھی کی
سوال یہ ہے کہ کیا غامدی ابن عربی کو کافر مانتے ہیں ؟ تکفیر کرتے ہیں ؟
اگر نہیں کرتے، تو ٹھیک ، علماء اہل سنہ کا بھی یہی طریقہ رہا
اور اگر تکفیر کرتے ہیں تو کیسے کرتے ہیں ؟ ان کے نزدیک "تکفیر" تو صرف خدائی تصدیق سے ہو سکتی ہے جو محمد رسول الله (ص) پر ختم ہو چکی !
امام سیوطی نے کتاب لکھی "تنبیہ ال غبیح"
( ترجمہ - بیواکوفوں کو وارننگ )
جس میں انہوں نے ابن عربی کو کافر کہنے والوں کی زبان بندی کی ہے !
اہل حدیث مشہور عالم مولانا اسحاق کے نزدیک ابن عربی چوٹی کے عالم ہیں - یقینن ابن عربی کے حوالے سے معملات واضح نہیں ہیں - ان کی تحریر کو یا سمجھا نہیں گیا ہے یا تراجم و مفہوم میں کوئی مغلٹا ہے
غامدی فلسفہ !!
حدیث یعنی "اخبار احد"
سے بچنے کے لیے "عملی تواتر" کا نظریہ
اور "عملی تواتر" کے ثبوت کے لیے
"تاریخ" جو خود "اخبار احد" ہے
حدیث پر تو اسما رجال کی قید ثابت ہے
اور تاریخ پر بادشاہوں کی قید ثابت ہے
Comments
Post a Comment