Exposing Ghamidi - Episode # 5 - Relationship before marriage



 نوٹ: 

(١) لڑکی نے سوال کیا ، میں سنگل ہوں ،ماں باپ پاکستان میں ہیں ، میں رشتے کے لیے غیر محرم لڑکوں سے مل سکتی ہوں ؟ (لڑکی نہ محرمو سے خلوت میں ملنے کی اجازت چاہ رہی ہے اور اس فتوی کے لیے منتخب بھی پروفیسر کیا ہے کوئی باقاعدہ مفتی یا عالم دین نہیں )


(٣) ویڈیو ال مورد والوں نے خود اپلوڈ کی ہے .. اس کا ٹائٹل غور کریں 

Are Relationships/Affairs before Marrige OK | Javed Ahmad Ghamidi


اجازت لڑکی شادی کے سلسلے میں بغیر ماں باپ کے غیر محرم لڑکوں سے ملنے کی مانگ رہی ہے اور ویڈیو کا ٹائٹل ان ظالمو نے کیا لگایا ہے .. شادی سے پہلے کے تعلقات.. مطلب جو غامدی کے سحر میں مبتلا ہو جاۓ ، وہ "شادی کے سلسلے" کو تو پیچھے ہی چھوڑ دے، اور غامدی کے فتوے کو باقاعدہ بوئی فرینڈ گرل فرنڈ کے کلچر کی اجازت ہی سمجھ لے !


پائنٹ # ١ 

ایسے پروفیسروں سے کوئی پوچھے  ، خلوت میں لڑکی شادی کی نیت سے مل رہی ہو ، پینگیں بڑھا رہی ہو ، قربت کے لمحات ہوں ، مگر لڑکے کی نیت خراب ہو ، اور وہ لمحات و جذبات کا فائدہ اٹھا کر لڑکی کے حواسوں پر غالب ا جاۓ ، پھر کون زمیدار ہو گا ؟ لڑکی تو شادی کی نیت سے خلوت میں مل رہی تھی ، اور لڑکا بد نیت کے ساتھ ؟ الله کرے جن جن مسلمان لڑکیوں کو اس ظالم پروفسور نے تباہ و برباد کروایا ہے ، ان کی سزا میں ایسے پروفیسر حضرات  بھی شریک ہو جائیں جو امت کو گمراہی و بدکاری کی راہوں پر اپنے مذہب جدت پسندی کے احیا کی نذر کر رہے ہیں 



کوئی زمیدار عالم مسلمان لڑکی کو خلوت میں غیر محرم لڑکوں سے ملنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے ؟


پائنٹ # ٢ : اگر چممیاں پپپیاں کپڑے اتار کر مجرے بھی کر لیے , مگر صرف اندر نہیں گھسسایا , تو خدا نہیں پوچھے گا ؟ کوئی زمیدار عالم ایسی بات کیسے کر سکتا ہے ؟ جبکہ خلوت میں نہ محرم لڑکے لڑکی کا ملنا بذات خود گناہ ہے 


کیا نبی (ص) نے نہیں فرمایا "نہ محرم مرد اور عورت جب ساتھ ہوں تو تیسرا شیطان'ہوتا ہے " ؟ یہ حدیث فرقہ غامدیہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی ؟


 The Beloved Rasool The Prophet Muhammad صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم has stated: ‘لَا یَخْلُوَنَّ رَجَلٌ بِامْرَاَۃٍ اِلَّا کَانَ ثَالِثَھُمَا الشَّیْطَانُ’ i.e. whenever a man is with any non-Mahram woman in seclusion, then surely, the third one with them is Satan.


(Sunan-ut-Tirmizi, vol. 4, pp. 67, Hadees 2172)



Comments