Concept of "Sawad E Azam" from Nahj Al Balagha - Imam Ali Aleh Salam

 اگر امام علی علیہ سلام کی ہی مان لی جاۓ تو ہی کیا کم ہے ؟  ایک  حدیث میں بھی رسول الله (ص) نے میانہ روی کو اصول بنایا .. امّت کے بڑے اجماع کو حجت قرآن نے بنایا (عقاید کے معاملے میں) .. امام علی جو آقا کے شہر علم کا دروازہ ہیں ، نے بھی اسی طرف متوجہ کیا ہے ..  انہوں نے تو باقاعدہ "صواد آزم" کے الفاظ استعمال کے ہیں .. ہمارا منہاج بھی صواد ازم ہی ہے الحمدلللہ - اہل سنہ اور اہل تشیو کے وہ اکثریتی لوگ جو کفر و شرک و بدعات سے پاک ہیں ، توحید خالص ہے اور تبرا و تکیہ سے پرہیز کرتے ہیں .. جیسے علامہ جواد نقوی وغیرہ - امام علی نے فرمایا "جماعت سے الگ ہونے والا شیطان کے ساتھ ہو جاتا ہے (عقائد میں)"

افسوس ہم نے مقصدے شہادتے حسین کو بھلا دیا۔ 

وہ زمانے کے بہائو پر نہ بہے۔ جان دے دی مگر اپنے نانا کے بتائے ہوئے اصولوں پر سمجھوتا نہ کیا۔

اور نانا کا اصول یہ تھا "اہل تقویٰ و اہل علم کی مشاورت شوریٰ پر مبنی نظام شریعت"

آج جمہوریت میں نہ اہل تقویٰ ہیں (نماز روزہ کچھ نہیں )، نہ اہل علم ہیں (قرآن و سنت و حدیث ) کا علم خاک نہیں ، نظام شریعت کا ککھ پتا نہیں " اور گڑھے گھوڑے کے مساوی ووٹ پر حکومت کر رہے ہیں "

نانا جان نے موروثیت قائم کرنی ہوتی تو حجت الوداع بہترین موقع تھا جب دین مکمل ہوا ، آپ اپنے انتقال کے دن کے لیے اس نظام موروثیت کے اعلان کو بچا کر نہ رکھتے نہ اے اعلان عظیم کسی کاغذ قلم کے لکھنے کا محتاج رہ جاتا !




Comments