مخلوق (عیسیٰ) کو خالق بنا ڈالا
ذرا سوچیں جب کائنات کا ہر ایک ایٹم الیکٹران پروٹون ہر زرہ زرہ رب کی پکار پر قطار در قطار ا کھڑا ہو گا .. ساری کائناتوں کے سارے مظاہرسارے ذرے، لوح محفوظ پر لکھے ہر فیصلے ، لوح محفوظ پر لکھی ہر ممکنہ تاریخ ، ہر انسان ، ہر انسانی خیال جس نے جنم لیا ، سورج چاند ستارے کہکشائیں ساری کائناتیں ، کائنات میں ابھری چھوٹی بّڑی ہر آواز ، جنم لی ہوئی ہر روشنی ، انسانو کی لی ہوئی ہر سانس ، ہر ثواب ہر گناہ ، آدم سے لے کر آخری انسان تک کے اذہان میں آیا ہر خیال ، سمندروں کی ہر لہر ، پہاڑوں کی ہر اونچائی و ڈھلان ، جبرئیل علیہ سلام کے پروں کی ہر چمک ، الغرض کائنات میں جنم لی ہوئی ہر مخلوق جب خالق واحد کے سامنے محو حیرت ہو گی ، جب جہنم کی آگ کے شولے اس عظیم کائنات کی حدود کو چھو رہےہوں گے ، تو اے انسان تیرا کیا حال ہو گا .. کیا تیری اکڑ ہو گی .. کیا تیرا وجود ہو گا ؟
مخلوق (عیسیٰ) کو خالق بنا ڈالا ؟
ظالم تونے ظلم عظیم کر ڈالا !
دیکھا نہ سمجھا جانا نہ پرکھا !
کائنات کا یہ عظیم جھوٹ کہ ڈالا !
Comments
Post a Comment